سیرت

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - عادت، خصلت، خُو۔ "آپۖ نہایت نرم مزاج، خوش اخلاق اور نِکو سیرت تھے۔"      ( ١٩١٤ء، سیرۃ النبی، ٢٩١:٢ ) ٢ - کردار کی پاکیزگی، حالتِ باطنی، ذاتی وصف، خُوبی۔ "اس کی زیر کی اور عیاری بددیانت سرمایہ داروں کی سیرت کا آئینہ ہے۔"      ( ١٩٨٧ء، اک محشر خیال، ٤٠ ) ٣ - سوانح عمری، زندگی کے حالات و واقعات کا تذکرہ؛ سوانح نگاری۔ " 'سیرتِ نبویہ' کا ایک ایک حرف نبوت پر شاہدِ عدل ہے۔"      ( ١٩٢٣ء، سیرۃ النبی، ١٨٦:٣ ) ٤ - حضرت محمد مصطفٰیۖ کے حالات و واقعاتِ زندگی کا تذکرہ، سیرتِ نبوی۔ "پھر پورب کے سفر سے واپسی کے کچھ عرصے کے بعد سیرت کی ایک مختصر سی کتاب میرے ہاتھ لگ گئی۔"      ( ١٩٦٢ء، محسن اعظم اور محسنین، ٦ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ عربی سے من و عن اردو میں داخل ہوا اور بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٥٦٤ء کو "دیوان حسن شوقی" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - عادت، خصلت، خُو۔ "آپۖ نہایت نرم مزاج، خوش اخلاق اور نِکو سیرت تھے۔"      ( ١٩١٤ء، سیرۃ النبی، ٢٩١:٢ ) ٢ - کردار کی پاکیزگی، حالتِ باطنی، ذاتی وصف، خُوبی۔ "اس کی زیر کی اور عیاری بددیانت سرمایہ داروں کی سیرت کا آئینہ ہے۔"      ( ١٩٨٧ء، اک محشر خیال، ٤٠ ) ٣ - سوانح عمری، زندگی کے حالات و واقعات کا تذکرہ؛ سوانح نگاری۔ " 'سیرتِ نبویہ' کا ایک ایک حرف نبوت پر شاہدِ عدل ہے۔"      ( ١٩٢٣ء، سیرۃ النبی، ١٨٦:٣ ) ٤ - حضرت محمد مصطفٰیۖ کے حالات و واقعاتِ زندگی کا تذکرہ، سیرتِ نبوی۔ "پھر پورب کے سفر سے واپسی کے کچھ عرصے کے بعد سیرت کی ایک مختصر سی کتاب میرے ہاتھ لگ گئی۔"      ( ١٩٦٢ء، محسن اعظم اور محسنین، ٦ )

اصل لفظ: سییر
جنس: مؤنث