سیف

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - تلوار، تیغ، لمبی تلوار۔ "تاجر نے سیف خون آشام سے اس مرد. کا کام تمام کیا۔"      ( ١٩٠١ء، الف لیلہ، سرشار، ٥٨ )

اشتقاق

عربی زبان سے اسم جامد ہے۔ عربی سے من و عن اردو میں داخل ہوا اور بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٥٦٤ء کو "دیوان حسن شوقی" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - تلوار، تیغ، لمبی تلوار۔ "تاجر نے سیف خون آشام سے اس مرد. کا کام تمام کیا۔"      ( ١٩٠١ء، الف لیلہ، سرشار، ٥٨ )

جنس: مؤنث