سیل

قسم کلام: اسم کیفیت ( مذکر، مؤنث - واحد )

معنی

١ - پانی کا تیز بہاؤ، سیلاب، طغیانی، بہاؤ۔ "ان کے وجود کی مٹی میں تشنگی کا ایک ایسا سیل موج زن ہے جو ان کو برابر سوچنے پر. اور بولنے پر مجبور کرتا ہے۔"      ( ١٩٨٦ء، آنکھ اور چراغ، ١٣٦ ) ٢ - [ تصوف ]  غلبہ احوال دلی کو کہتے ہیں۔ (مصباح التصرف، 149)۔

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ عربی سے من و عن اردو میں داخل ہوا اور بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٩٦٥ء کو "علی نامہ" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - پانی کا تیز بہاؤ، سیلاب، طغیانی، بہاؤ۔ "ان کے وجود کی مٹی میں تشنگی کا ایک ایسا سیل موج زن ہے جو ان کو برابر سوچنے پر. اور بولنے پر مجبور کرتا ہے۔"      ( ١٩٨٦ء، آنکھ اور چراغ، ١٣٦ )

اصل لفظ: سیل