سیوا

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - خدمت "جو کچھ میں آشا کرتا ہوں کہ ہم کچھ نہ کچھ سیوا کریں گے۔"      ( ١٩٧٦ء، ہندی اردو تنازع، ٣٩٥ ) ٢ - نگہداشت، دیکھ بھال، رکھوالی، حفاظت۔ "ان میں بڑا پادری وہ شخص ہے جو گایوں کی داشت اور سیوا میں طُولٰی رکھتا ہے۔"      ( ١٩١٣ء تمدن ہند، ١١٢ ) ٣ - پرستش، پوجا، عبادت۔ "بتوں کو جو پتھر کی تراشی ہوئی مُورت ہے، جسکی سیوا سے رتی بھر بھی فائدہ نہیں۔"      ( ١٩١٩ء، بابا نانک کا مذہب، ٤٨ ) ٤ - ذکر، یاد۔ "آؤ غریب دیس کے مہاراجہ . پتی کی سیوا اور مہما کریں۔"      ( ١٩١٣ء، سی پارۂ دل، ٢٠٤ )

اشتقاق

سنسکرت سے اردو میں ماخوذ ہے اور عربی رسم الخط میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٥٦٤ء کو "دیوان حسن شوقی" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - خدمت "جو کچھ میں آشا کرتا ہوں کہ ہم کچھ نہ کچھ سیوا کریں گے۔"      ( ١٩٧٦ء، ہندی اردو تنازع، ٣٩٥ ) ٢ - نگہداشت، دیکھ بھال، رکھوالی، حفاظت۔ "ان میں بڑا پادری وہ شخص ہے جو گایوں کی داشت اور سیوا میں طُولٰی رکھتا ہے۔"      ( ١٩١٣ء تمدن ہند، ١١٢ ) ٣ - پرستش، پوجا، عبادت۔ "بتوں کو جو پتھر کی تراشی ہوئی مُورت ہے، جسکی سیوا سے رتی بھر بھی فائدہ نہیں۔"      ( ١٩١٩ء، بابا نانک کا مذہب، ٤٨ ) ٤ - ذکر، یاد۔ "آؤ غریب دیس کے مہاراجہ . پتی کی سیوا اور مہما کریں۔"      ( ١٩١٣ء، سی پارۂ دل، ٢٠٤ )

جنس: مؤنث