شائبہ

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - ملاوٹ، آمیزش، آلودگی۔ "اس میں کسی اساطیری خصوصیت کا کوئی شائبہ نہیں۔"      ( ١٩٨٦ء، دنیا کا قدیم ترین ادب، ٤٨٧:١ ) ٢ - خفیف سی مقدار، ہلکا سا نشان؛ معمولی سا حصہ، ایک جُزو۔ "ان جبلی فعلیتوں کے شائبے آدمی میں اکثر دیکھے جا سکتے ہیں، مگر آموزش عادت، ذہانت اور ثقافت نے انہیں اسقدر دبا دیا ہے کہ آدمی میں جبلی کردار کا ذکر کرنا شاذ و نادر ہی مناسب ہوتا ہے۔"      ( ١٩٦٩ء، نفسیات کی بنیادیں، ٥٢ ) ٣ - شک، احتمال۔ "اولادِ ذکور کی محرومی کا شائبہ بھی اس کے شعور کے اندر کبھی نہ ابھرنے دیا تھا۔"      ( ١٩٨٦ء، آئینہ، ٢٢٨ )

اشتقاق

عربی میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم مونث ہے۔ اردو میں بطور اسم مذکر استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٨٠٥ء کو "آرائشِ محفل" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - ملاوٹ، آمیزش، آلودگی۔ "اس میں کسی اساطیری خصوصیت کا کوئی شائبہ نہیں۔"      ( ١٩٨٦ء، دنیا کا قدیم ترین ادب، ٤٨٧:١ ) ٢ - خفیف سی مقدار، ہلکا سا نشان؛ معمولی سا حصہ، ایک جُزو۔ "ان جبلی فعلیتوں کے شائبے آدمی میں اکثر دیکھے جا سکتے ہیں، مگر آموزش عادت، ذہانت اور ثقافت نے انہیں اسقدر دبا دیا ہے کہ آدمی میں جبلی کردار کا ذکر کرنا شاذ و نادر ہی مناسب ہوتا ہے۔"      ( ١٩٦٩ء، نفسیات کی بنیادیں، ٥٢ ) ٣ - شک، احتمال۔ "اولادِ ذکور کی محرومی کا شائبہ بھی اس کے شعور کے اندر کبھی نہ ابھرنے دیا تھا۔"      ( ١٩٨٦ء، آئینہ، ٢٢٨ )

اصل لفظ: شوب
جنس: مذکر