شائستہ

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - مستحق، لائق، سزاوار۔ "ہر شائستہ ادب شاعر کو میں اپنے لیے قابلِ احترام اور سب کے لیے قابلِ قدر سمجھتا ہوں۔"      ( ١٩٨٨ء، جنگ، کراچی، ٢٩ اپریل، ١٤ ) ٢ - معقول، با اخلاق، مہذب۔ "اسلام جب ذہن کی تربیت کرتا ہے تو فکر و نظر شائستہ بنا دیتا ہے۔"      ( ١٩٨٥ء، طوبٰی، ٢٩٩ )

اشتقاق

فارسی مصدر 'شائستن' سے صیغہ ماضی مطلق واحد غائب 'شائِسْت' کے ساتھ 'ہ' بطور لاحقۂ حالیہ تمام ملنے سے 'شائستہ' بنا۔ اردو میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے اور سب سے پہلے ١٨١٠ء کو "کلیاتِ میر" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - مستحق، لائق، سزاوار۔ "ہر شائستہ ادب شاعر کو میں اپنے لیے قابلِ احترام اور سب کے لیے قابلِ قدر سمجھتا ہوں۔"      ( ١٩٨٨ء، جنگ، کراچی، ٢٩ اپریل، ١٤ ) ٢ - معقول، با اخلاق، مہذب۔ "اسلام جب ذہن کی تربیت کرتا ہے تو فکر و نظر شائستہ بنا دیتا ہے۔"      ( ١٩٨٥ء، طوبٰی، ٢٩٩ )

اصل لفظ: شائِستَن