شائع

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - آشکارا، ظاہر۔ "ہم اس تغیر کی ماہیت سے واقف نہیں، جو نام نہاد عصبی ہیجان کی صورت میں عصبی ریشوں میں شائع ہوتا ہے۔"      ( ١٩٣٢ء، اساس نفسیات، ٣٥ ) ٢ - عام، پھیلا ہوا۔ "اسلام کے ساتھ عربی زبان ایران میں شائع ہوئی۔"      ( ١٩٤٦ء، شیرانی، مقالات، ٢٦٤ ) ٣ - مشتہر، چھاپ کر مشتہر کیا ہوا، چھاپا ہوا۔ "اس مجموعے کو بہت پہلے شائع ہو جانا تھا۔"      ( ١٩٧٩ء، زخمِ ہنر، ٥ )

اشتقاق

عربی میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے اور سب سے پہلے ١٨٢٧ء کو "ہدایت المومنین" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - آشکارا، ظاہر۔ "ہم اس تغیر کی ماہیت سے واقف نہیں، جو نام نہاد عصبی ہیجان کی صورت میں عصبی ریشوں میں شائع ہوتا ہے۔"      ( ١٩٣٢ء، اساس نفسیات، ٣٥ ) ٢ - عام، پھیلا ہوا۔ "اسلام کے ساتھ عربی زبان ایران میں شائع ہوئی۔"      ( ١٩٤٦ء، شیرانی، مقالات، ٢٦٤ ) ٣ - مشتہر، چھاپ کر مشتہر کیا ہوا، چھاپا ہوا۔ "اس مجموعے کو بہت پہلے شائع ہو جانا تھا۔"      ( ١٩٧٩ء، زخمِ ہنر، ٥ )

اصل لفظ: شیع