شاد

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - خوش، مسرور۔ "دست بدعا ہوا کہ اے خالق ارض و سما . اور پشت پناہ خاص و عام رکھ دوست شاد دشمن خراب رہیں۔"      ( ١٩٠١ء، الف لیلہ، سرشار، ٣ ) ٢ - پُر، بھرا ہوا، لبریز۔ (فرہنگِ آصفیہ)۔

اشتقاق

فارسی سے اردو میں اصل صورت اور مفہوم کے ساتھ ہوا۔ بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٥٠٣ء کو "نوسرہار بحوالہ اردو ادب" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - خوش، مسرور۔ "دست بدعا ہوا کہ اے خالق ارض و سما . اور پشت پناہ خاص و عام رکھ دوست شاد دشمن خراب رہیں۔"      ( ١٩٠١ء، الف لیلہ، سرشار، ٣ )