شاداب

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - سرسبز۔ ہرابھرا، تر و تازہ۔ "باہر باغ کا شاداب منظر واضح طور پر نظر آ رہا ہے۔"      ( ١٩٧٩ء، کیسے کیسے لوگ، ١٨ ) ٢ - خوش و خرم، آباد، پُررونق، گہما گہمی سے پُر۔  وقت تو ایک بگولہ ہے کہ اڑتا ہی چلا جاتا ہے زندگی میں کوئی لمحۂِ شاداب نہیں      ( ١٩٨١ء، تشنگی کا سفر، ٦٧ )

اشتقاق

فارسی میں صفت'شاد' کے ساتھ فارسی اسم ملنے سے 'شاداب' بنا۔ فارسی سے اردو میں داخل ہوا۔ بطور صفت استعمال ہوتا ہے اور سب سے پہلے ١٨٧٧ء کو "توبۃ النصوح" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - سرسبز۔ ہرابھرا، تر و تازہ۔ "باہر باغ کا شاداب منظر واضح طور پر نظر آ رہا ہے۔"      ( ١٩٧٩ء، کیسے کیسے لوگ، ١٨ )

اصل لفظ: شاد+آب