شادیانہ
معنی
١ - باجا جو بیاہ، فتح یا کسی اور خوشی کے موقع پر بجایا جائے، وہ ساز جو خوشی کے موقع پر بجایا جائے اور اس کی آواز سے خوشی کا اظہار ہو۔ "اور جب چاروں طرف شادیانوں کی بجائے ماتم کا سا سماں نظر آتا تھا۔" ( ١٩٨٢ء، آتشِ چنار، ٦٢٥ ) ٢ - خوشی یا مبارکباد کا گیت جو فتح اور شادمانی کے موقع پر گایا جائے۔ "دوسرا طائفہ بسم اللہ جان کا تھا . زیور پہنے بیٹھی ابھی صرف شادیانے گا رہی تھی۔" ( ١٩٦٤ء، نورِ مشرق، ٣٠ )
اشتقاق
فارسی میں صفت 'شاد' کے ساتھ 'انہ' بطور لاحقہ اسمیت ملنے سے 'شادیانہ' بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے اور سب سے پہلے ١٧٩٤ء کو "جنگ نامہ آصف الدولہ" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - باجا جو بیاہ، فتح یا کسی اور خوشی کے موقع پر بجایا جائے، وہ ساز جو خوشی کے موقع پر بجایا جائے اور اس کی آواز سے خوشی کا اظہار ہو۔ "اور جب چاروں طرف شادیانوں کی بجائے ماتم کا سا سماں نظر آتا تھا۔" ( ١٩٨٢ء، آتشِ چنار، ٦٢٥ ) ٢ - خوشی یا مبارکباد کا گیت جو فتح اور شادمانی کے موقع پر گایا جائے۔ "دوسرا طائفہ بسم اللہ جان کا تھا . زیور پہنے بیٹھی ابھی صرف شادیانے گا رہی تھی۔" ( ١٩٦٤ء، نورِ مشرق، ٣٠ )