شان
معنی
١ - قدرت، طاقت۔ "حق تعالٰی جلِ شانہ کی شان ایسی نہیں کہ اس کے کوئی اِسے پہچان سکے" ( ١٨٨٧ء، خیابانِ آفرینش، ٢ ) ٢ - وقار، توقیر۔ "مدرسے کی شان اچھی ہے مگر طرزِ تعلیم ترمیم کے قابل ہے" ( ١٩٠٧ء، سفر نامۂ ہندوستان، ٢٨ ) ٣ - آن بان؛ سج دھج، شان و شوکت، ٹھاٹھ باٹ۔ "استانی جی اس شان عورت کہ کبھی ناک پر مکھی نہ بیٹھنے دی" ( ١٩٠٨ء، صبحِ زندگی، ٢٠٣ ) ٤ - مرتبہ، عظمت، قدر و منزلت، شکوہ۔ "آپ سے گزارش ہے کہ شانِ ماضی کے جذبات سے لطف اندوز ہونے کے بجائے پندرھویں صدی کے متعلق میرے تردّد افکار کو سننے کی زحمت گوارا فرمائیں" ( ١٩٨٤ء، مقاصد و مسائل پاکستان، ١٦٦ ) ٥ - نمرود و تمکنت، دبدبہ، رعب۔ "بنو تمیم کے وفود بڑی شوکت و شان سے آئے" ( ١٩١٤ء، سیرۃ النبی، ٣٥:٢ ) ٦ - انداز، طرز، وضع۔ "کاغذ کی کہنگی یا خط کی شان سے کتابت کا ٹھیک زمانہ متعین ہو سکتا ہے" ( ١٩٠٤ء، مقالاتِ شبلی، ٧٠:١ ) ٧ - رونق؛ بہار؛ چہل پہل۔ لے گئے لوٹ کے اب شوکت و شانِ دہلی پوربی پہلے اُڑاتے تھے زبانِ دہلی ( ١٨٧٨ء، گلزار داغ، ٢٢٨ ) ٨ - فطرت، عادت، مزاج۔ "رطوبات کو خشک کرنے والی معجونیں جن میں گرمی پیدا کرنے کی شان نہ ہو کھلائیں" ( ١٩٣٦ء، شرح اسباب (ترجمہ)، ٣١٩:٢ ) ٩ - امرِ عظیم، کار بزرگ، بڑی مہم۔ "کودک کو شانِ عظیم درپیش ہے اور عنقریب بہ معارجِ سروری اور مدارجِ نیک اختری ترقی کرے گا" ( ١٨٥١ء، عجائب القصص (ترجمہ) ٣٨:٢ ) ١٠ - محلِ استعمال، موقع کے مطابق استعمال کرنا۔ "کوئی ذخیرہ مثلوں اور شان امثال کا ملے تو بڑا کام ملے" ( ١٨٩٢ء، مکاتیب امیر مینائی، ١٧١ )
اشتقاق
عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے اسم مشتق ہے۔ اردو میں بطور اسم مجرد استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٦١١ء کو "کلیات قلی قطب شاہ" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - قدرت، طاقت۔ "حق تعالٰی جلِ شانہ کی شان ایسی نہیں کہ اس کے کوئی اِسے پہچان سکے" ( ١٨٨٧ء، خیابانِ آفرینش، ٢ ) ٢ - وقار، توقیر۔ "مدرسے کی شان اچھی ہے مگر طرزِ تعلیم ترمیم کے قابل ہے" ( ١٩٠٧ء، سفر نامۂ ہندوستان، ٢٨ ) ٣ - آن بان؛ سج دھج، شان و شوکت، ٹھاٹھ باٹ۔ "استانی جی اس شان عورت کہ کبھی ناک پر مکھی نہ بیٹھنے دی" ( ١٩٠٨ء، صبحِ زندگی، ٢٠٣ ) ٤ - مرتبہ، عظمت، قدر و منزلت، شکوہ۔ "آپ سے گزارش ہے کہ شانِ ماضی کے جذبات سے لطف اندوز ہونے کے بجائے پندرھویں صدی کے متعلق میرے تردّد افکار کو سننے کی زحمت گوارا فرمائیں" ( ١٩٨٤ء، مقاصد و مسائل پاکستان، ١٦٦ ) ٥ - نمرود و تمکنت، دبدبہ، رعب۔ "بنو تمیم کے وفود بڑی شوکت و شان سے آئے" ( ١٩١٤ء، سیرۃ النبی، ٣٥:٢ ) ٦ - انداز، طرز، وضع۔ "کاغذ کی کہنگی یا خط کی شان سے کتابت کا ٹھیک زمانہ متعین ہو سکتا ہے" ( ١٩٠٤ء، مقالاتِ شبلی، ٧٠:١ ) ٨ - فطرت، عادت، مزاج۔ "رطوبات کو خشک کرنے والی معجونیں جن میں گرمی پیدا کرنے کی شان نہ ہو کھلائیں" ( ١٩٣٦ء، شرح اسباب (ترجمہ)، ٣١٩:٢ ) ٩ - امرِ عظیم، کار بزرگ، بڑی مہم۔ "کودک کو شانِ عظیم درپیش ہے اور عنقریب بہ معارجِ سروری اور مدارجِ نیک اختری ترقی کرے گا" ( ١٨٥١ء، عجائب القصص (ترجمہ) ٣٨:٢ ) ١٠ - محلِ استعمال، موقع کے مطابق استعمال کرنا۔ "کوئی ذخیرہ مثلوں اور شان امثال کا ملے تو بڑا کام ملے" ( ١٨٩٢ء، مکاتیب امیر مینائی، ١٧١ )