شاید
قسم کلام: حرف فجائیہ
معنی
١ - احتمال یا امکان ہے، ممکن ہے۔ اس جگہ شاید کبھی اس کا بسیرا ہو سلیم ایک چڑیا دیر تک بیٹھی رہی دیوار پر ( ١٩٨٣ء، سلیم احمد، چراغ نیم شب، ٩٠ ) ٢ - غالباً، ظنِ غالب یہ ہے، ہو سکتا ہے۔ کچھ موجِ ہوا پیچاں اے میر نظر آئی شاید کہ بہار آئی زنجیر نظر آئی ( ١٨١٠ء، میر، کلیات، ٢٧٧ )
اشتقاق
فارسی مصدر 'ستایستن' سے فعل مضارع 'شاید' اردو میں بطور کلمۂ شک استعمال ہوتا ہے اور سب سے پہلے ١٧٦٩ء کو "آخرگشت" میں مستعمل ملتا ہے۔
اصل لفظ: شایستن