شباب

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - سنِ بلوغ سے تیس یا چالیس برس کی عمر تک کا زمانہ، جوانی، جوبن۔  ایسا گزرا شباب کا عالم اے اثر جیسے خواب کا عالم      ( ١٩٨٣ء، حصارِ انا، ١٨٠ ) ٢ - نقطۂ عروج، درجہ کمال، عروج کا زمانہ، " یہ چاروں اصحاب ساقی کے شباب تک شاید صاحب کے ساتھ رہے"      ( ١٩٨٣ء، نایاب ہیں ہم، ٦٤ ) ٣ - [ تصوف ]  سرعت سیر کو کہتے ہیں مقامات پر ارو تصفیہ باطن کو بھی نیز شباب سے مراد حدِ بلوغ کو پہنچنا ہے۔ (مصباح التصرف، 150)

اشتقاق

عربی میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے اور سب سے پہلے ١٥٢٨ء کو "مشتاق بیدری بحوالہ اردو" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - نقطۂ عروج، درجہ کمال، عروج کا زمانہ، " یہ چاروں اصحاب ساقی کے شباب تک شاید صاحب کے ساتھ رہے"      ( ١٩٨٣ء، نایاب ہیں ہم، ٦٤ )

اصل لفظ: شبب
جنس: مذکر