شبانہ
قسم کلام: صفت نسبتی
معنی
١ - رات سے متعلق، رات کا۔ اے راحتِ شبانہ دامن نہ کھینچ میرا دو گام کے سفر میں کیا شام کیا سویرا ( ١٩٨١ء، حرف دل رس، ٩٩ )
اشتقاق
فارسی سے ماخوذ اسم مؤنث 'شب' کے ساتھ 'اند' بطور لاحقۂ صفت و نسبت ملنے سے 'شبانہ' بنا۔ اردو میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے اور سب سے پہلے ١٨٦٩ء کو "دیوان غالب" میں مستعمل ملتا ہے۔
اصل لفظ: شب