شباہت

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - شکل و صورت کی مماثلت، مشابہت۔ "کیا مجھ میں اُس کی کوئی شباہت ہے"      ( ١٩٤٤ء، افسانچے، ٥٢ ) ٢ - صورت، شکل، روپ۔  بیداریوں کا خواب حقیقت دکھائی دے ہر مشکل میں اسی کی مشابہت دکھائی دے      ( ١٩٨٣ء، بے نام، ١٤٤ ) ٣ - مثل، عکس۔  نہ لکھ سکے تیری صورت کی شباہت عطارد قلم لے اگر ہوئے چتارا      ( ١٦٧٢ء، عبداللہ قطب شاہ، دیوان، ٨٥ ) ٤ - شُبہ، شک (شاذ)۔  انہوں نے جس نے جو مانگی ہے حاجت تو بر آئی وہ حاجت بے شباہت      ( ١٨٠٠ء، زین المجالس، ٢٤٨ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں بطور اسم ہی استعمال ہوتا ہے۔ اور سب سے پہلے ١٦٣٥ء کو "تحفۃ المومنین" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - شکل و صورت کی مماثلت، مشابہت۔ "کیا مجھ میں اُس کی کوئی شباہت ہے"      ( ١٩٤٤ء، افسانچے، ٥٢ )

اصل لفظ: شبہ
جنس: مؤنث