شتر

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - اونٹ۔ "ایک دفعہ آپۖ صحابہ کے مجمع میں تشریف فرما تھے ایک بدو آیا اور آپ کی چادر کا گوشہ زور سے کھینچ کر بولا محمدۖ! یہ مال نہ تیرا ہے نہ تیرے باپ کا ہے ایک بار شُتر دے، آپۖ نے اس کے اونٹ کو جَو اور کھجوروں سے لدوا دیا"      ( ١٩١٤ء، سیرۃ النبیۖ، ٣٠٩:٢ )

اشتقاق

فارسی سے اردو میں داخل ہوا اور اپنے اصل مفہوم و صورت کے ساتھ بطور اسم استعمال ہوتا ہے اور سب سے پہلے ١٧٦٩ء کو "آخر گشت" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - اونٹ۔ "ایک دفعہ آپۖ صحابہ کے مجمع میں تشریف فرما تھے ایک بدو آیا اور آپ کی چادر کا گوشہ زور سے کھینچ کر بولا محمدۖ! یہ مال نہ تیرا ہے نہ تیرے باپ کا ہے ایک بار شُتر دے، آپۖ نے اس کے اونٹ کو جَو اور کھجوروں سے لدوا دیا"      ( ١٩١٤ء، سیرۃ النبیۖ، ٣٠٩:٢ )

جنس: مذکر