شخصیت

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - انفرادی وجود، ذات، فرد، ہستی۔  نہ نعمتوں کے لیے کوئی امتیاز صفت نہ حوصلوں کے لیے کوئی قیدِ شخصیت      ( ١٩٣١ء، نقوشِ مانی، ١٥٩ ) ٢ - ذاتی خصوصیات یا کردار، عادات، صفات کا مجموعہ۔ "شخصیت طاقت کی جان ہے"      ( ١٩٨٤ء، مقاصد و مسائل پاکستان، ٢٧ ) ٣ - ذاتی عزت، وقار، حرمت، شان، بزرگی، مرتبہ۔ "اگر ہم اپنی شخصیت گنوا بیٹھتے تو ہمیں کوئی کوڑی کے مول بھی نہ پوچھتا۔"      ( ١٩١٤ء، راج دلاری، ١٦٢ )

اشتقاق

عربی سے ماخوذ اسم 'شخص' کے ساتھ 'یت' بطور لاحقۂ کیفیت بڑھانے سے 'شخصیت' بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے اور سب سے پہلے ١٨١٠ء کو "کلیاتِ میر" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - ذاتی خصوصیات یا کردار، عادات، صفات کا مجموعہ۔ "شخصیت طاقت کی جان ہے"      ( ١٩٨٤ء، مقاصد و مسائل پاکستان، ٢٧ ) ٣ - ذاتی عزت، وقار، حرمت، شان، بزرگی، مرتبہ۔ "اگر ہم اپنی شخصیت گنوا بیٹھتے تو ہمیں کوئی کوڑی کے مول بھی نہ پوچھتا۔"      ( ١٩١٤ء، راج دلاری، ١٦٢ )

اصل لفظ: شخص
جنس: مؤنث