شرابور

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - سرتاپا تربتر، سر سے پانو تک بھیگا یا ڈوبا ہوا، لت پت۔ "اس کے جسم پر لزرہ سا تھا اور پسینہ سے شرابور تھا"      ( ١٩٨٦ء، جوالامکھ، ١٩٤ ) ٢ - بکثرت، بہت زیادہ، لگاتار، مسلسل، متواتر (آنسو وغیرہ کی صفت کے طور پر مستعمل)۔ "غصے سے آگ ببولا اور آنکھوں سے شرابور آنسو جاری"      ( ١٨٧٢ء، عطر مجموعہ، ١٤٣:١ )

اشتقاق

سنسکرت سے اردو میں ماخوذ ہے اور بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ اور سب سے پہلے ١٨٣١ء "دیوانِ ناسخ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - سرتاپا تربتر، سر سے پانو تک بھیگا یا ڈوبا ہوا، لت پت۔ "اس کے جسم پر لزرہ سا تھا اور پسینہ سے شرابور تھا"      ( ١٩٨٦ء، جوالامکھ، ١٩٤ ) ٢ - بکثرت، بہت زیادہ، لگاتار، مسلسل، متواتر (آنسو وغیرہ کی صفت کے طور پر مستعمل)۔ "غصے سے آگ ببولا اور آنکھوں سے شرابور آنسو جاری"      ( ١٨٧٢ء، عطر مجموعہ، ١٤٣:١ )