شرارت

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - بدی، بدنیتی؛ ایذا رسانی؛ برائی۔  کوتہ نظر ان پست فطرت سہ گرمِ شرارت و عداوت      ( ١٩٢١ء، اکبر، کلیات، ٢٨٢:١ ) ٢ - سرکشی، فتنہ، فساد۔ "آرمینا والوں نے بغاوت اور شرارت کی"      ( ١٨٩٨ء، سرسید، مضامین، ٣٤ ) ٣ - شوخی، چلبلاپن، بیباکی، کوئی ایسی حرکت کرنا جس کا مقصد محض چھیڑنا یا پریشان کرنا ہو۔  یہ شرارت ترے گیسو کی ہے میں جانتا ہوں آنہ سکتی تھیں بلائیں مرے گھر آپ سے آپ      ( ١٩٨٣ء، سرمایۂ تضزل، ٥٢ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے اردو میں بطور اسم ہی استعمال ہوتا ہے اور سب سے پہلے ١٧٣٢ء کو "کربل کتھا" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - سرکشی، فتنہ، فساد۔ "آرمینا والوں نے بغاوت اور شرارت کی"      ( ١٨٩٨ء، سرسید، مضامین، ٣٤ )

اصل لفظ: سرر
جنس: مؤنث