شرارہ

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - آگ کا پتنگا، چنگاری۔ "جنہوں نے اِسے ہوا دی شرارہ الاؤ بن گیا "      ( ١٩٨٤ء، اوکھے لوگ، ٥٥ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے اردو میں بطور اسم ہی استعمال ہوتا ہے۔ اورر سب سے پہلے ١٧٩٨ء کو "دیوانِ سوز" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - آگ کا پتنگا، چنگاری۔ "جنہوں نے اِسے ہوا دی شرارہ الاؤ بن گیا "      ( ١٩٨٤ء، اوکھے لوگ، ٥٥ )

اصل لفظ: شرر
جنس: مذکر