شراکتی

قسم کلام: صفت نسبتی

معنی

١ - شرکت کا، مشترکہ۔ "اگر کاروبار شراکتی ہے تو ایک شریک کی موت سے پورا کاروبار چوپٹ ہو سکتا ہے۔"      ( ١٩٦٤ء، بیمۂ حیات، ١٢٦ )

اشتقاق

عربی زبان سے ماخوذ اسم 'شراکت' کے ساتھ 'ی' بطور لاحقۂ نسبت لگانے سے 'شراکتی' بنا۔ اردو زبان میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ ١٨٨٠ء کو "کاغذات کارروائی عدالت" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - شرکت کا، مشترکہ۔ "اگر کاروبار شراکتی ہے تو ایک شریک کی موت سے پورا کاروبار چوپٹ ہو سکتا ہے۔"      ( ١٩٦٤ء، بیمۂ حیات، ١٢٦ )

اصل لفظ: شرک