شرمیلا
قسم کلام: صفت ذاتی
معنی
١ - شرمگیں، شرم آلود، حیادار۔ "وہ پھرتیلا ضرور تھا لیکن اس قدر نہیں وہ فطرتاً شرمیلا ہے۔" ( ١٩٨٢ء، انسانی تماشا، ١٣٦ )
اشتقاق
عربی میں اسم 'شرم' کے ساتھ 'یلا' بطور لاحقۂ صفت بڑھانے سے 'شرمیلا' بنا۔ اردو میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے اور سب سے پہلے ١٨٧٢ء کو "محامد خاتم النبیینۖ" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - شرمگیں، شرم آلود، حیادار۔ "وہ پھرتیلا ضرور تھا لیکن اس قدر نہیں وہ فطرتاً شرمیلا ہے۔" ( ١٩٨٢ء، انسانی تماشا، ١٣٦ )
اصل لفظ: شرم
جنس: مذکر