شریانی

قسم کلام: صفت نسبتی

معنی

١ - شریان کا، شریان سے منسوب یا متعلق۔ "دیگر ڈاکٹروں نے بیان کیا ہے کہ اس سے صلابتِ شریانی میں مفید نتائج برآمد ہوئے ہیں۔"      ( ١٩٣٤ء، ہمدرد صحت، جولائی، ٢٣ ) ٢ - [ مجازا ]  خاص، اہم، غیر معمولی۔ "شہری طیارگی، ٹیلی فون اور دیگر مواصلاتی ذرائع کو ملک کی معیشت میں شریانی اہمیت حاصل ہے۔"      ( ١٩٧٧ء، معاشی جغرافیہ پاکستان، ٢٤٧ )

اشتقاق

عربی زبان سے ماخوذ اسم 'شریان' کے ساتھ 'ی' بطور لاحقۂ نسبت لگانے سے 'شریانی' بنا۔ اردو زبان میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ ١٨٦٠ء کو "نسخہ عمل طب" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - شریان کا، شریان سے منسوب یا متعلق۔ "دیگر ڈاکٹروں نے بیان کیا ہے کہ اس سے صلابتِ شریانی میں مفید نتائج برآمد ہوئے ہیں۔"      ( ١٩٣٤ء، ہمدرد صحت، جولائی، ٢٣ ) ٢ - [ مجازا ]  خاص، اہم، غیر معمولی۔ "شہری طیارگی، ٹیلی فون اور دیگر مواصلاتی ذرائع کو ملک کی معیشت میں شریانی اہمیت حاصل ہے۔"      ( ١٩٧٧ء، معاشی جغرافیہ پاکستان، ٢٤٧ )