شریر

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - شرارت کرنے والا، چھیڑ چھاڑ کرنے والا، فسادی، شوخ، بے لگام، بے باک۔ "پھول سیدھے سادھے ہرگز نہیں ہوتے وہ انتہا سے زیادہ شریر ہوتے ہیں۔"      ( ١٩٨٧ء، مدو جزر، ٩ ) ٢ - بدطینت، بدذات، سرکش۔ "آپ نے اسامہ بن زید کو مامور کیا کہ وہ فوج لے کر جائیں اور ان شریروں سے اپنے باپ کا انتقام لیں۔"      ( ١٩١٤ء، سیرت النبی، ١٧٠:٢ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے اور سب سے پہلے ١٧٧٢ء کو "دیوانِ فغاں" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - شرارت کرنے والا، چھیڑ چھاڑ کرنے والا، فسادی، شوخ، بے لگام، بے باک۔ "پھول سیدھے سادھے ہرگز نہیں ہوتے وہ انتہا سے زیادہ شریر ہوتے ہیں۔"      ( ١٩٨٧ء، مدو جزر، ٩ ) ٢ - بدطینت، بدذات، سرکش۔ "آپ نے اسامہ بن زید کو مامور کیا کہ وہ فوج لے کر جائیں اور ان شریروں سے اپنے باپ کا انتقام لیں۔"      ( ١٩١٤ء، سیرت النبی، ١٧٠:٢ )

اصل لفظ: شرر