شعبدہ
قسم کلام: اسم کیفیت
معنی
١ - ایسی بازی یا تماشا جس میں سحر، جادو مکرو فن یا ہاتھوں کی صفائی شامل ہو، نظر بندی؛ دھوکا، فریب گری۔ یہ شعبدے ہے دل جل کے خاک ہوتا ہے یہ معجزہ ہے نہ اٹھے دھواں نہ بو آئے ( ١٩٨٧ء، تذکرہ شعرائے بدایوں، ٢١٥:١ )
اشتقاق
عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں بطور اسم ہی استعمال ہوتا ہے۔ اور سب سے پہلے ١٨٩١ء کو "بوستانِ خیال" میں مستعمل ملتا ہے۔
اصل لفظ: شعب
جنس: مذکر