شفیق

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - شفقت کرنے والا، مہربان، دوست ہمدرد۔ "میرے باپ کی کمر بھی آخر میں بالکل اسی طرح جھک گئی تھی کتنی پیاری اور شفیق کمر ہے آپ کی"      ( ١٩٨٧ء، اک محشرِ خیال، ١٦٢ )

اشتقاق

عربی میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ عربی سے اردو میں داخل ہوا اور بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٦٩٧ء کو "دیوانِ ہاشمی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - شفقت کرنے والا، مہربان، دوست ہمدرد۔ "میرے باپ کی کمر بھی آخر میں بالکل اسی طرح جھک گئی تھی کتنی پیاری اور شفیق کمر ہے آپ کی"      ( ١٩٨٧ء، اک محشرِ خیال، ١٦٢ )

اصل لفظ: شفق