شناخت

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - پہچان، آگاہی، واقفیت۔ "وہ ہمیشہ یہ کہتے رہے کہ ان کو جو کچھ ملا ہے وہ پاکستان کی وجہ سے ملا ہے پاکستان ان کی شناخت ہے۔"      ( ١٩٨٨ء، غالب، کراچی، جنوری، ٢٢٣ ) ٢ - شناسائی، جان پہچان۔ "سیمیں کے چہرے پر بھی شناخت کا تاثر آتا ہے۔ حیرت سے اس کی طرف دیکھتی ہے۔"      ( ١٩٨٠ء، وارث، ٤٠٦ )

اشتقاق

فارسی میں مصدر 'شناختن' سے حاصل مصدر 'شناخت' مفہوم اور ساخت کے لحاظ سے من و عن اردو میں داخل ہوا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ اور سب سے پہلے ١٨٩٩ء کو "رویائے صادقہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - پہچان، آگاہی، واقفیت۔ "وہ ہمیشہ یہ کہتے رہے کہ ان کو جو کچھ ملا ہے وہ پاکستان کی وجہ سے ملا ہے پاکستان ان کی شناخت ہے۔"      ( ١٩٨٨ء، غالب، کراچی، جنوری، ٢٢٣ ) ٢ - شناسائی، جان پہچان۔ "سیمیں کے چہرے پر بھی شناخت کا تاثر آتا ہے۔ حیرت سے اس کی طرف دیکھتی ہے۔"      ( ١٩٨٠ء، وارث، ٤٠٦ )

اصل لفظ: شَناختن
جنس: مؤنث