شناسا

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - جان پہچان والا، دوست، واقف کار، پہچاننے والا۔ "وہاں ایک انگریز جو ان کا شناسا تھا غالباً جان شیکسپیئر یا بامران کو دیکھ کر حیران ہوا۔"      ( ١٩٨٧ء، نگار، کراچی، ستمبر، ١٢ ) ٢ - کسی چیز کو جاننے یا سمجھنے والا۔ "جو ہیرا جی کے روحانی تصرفات کے شناسا ہیں۔"      ( ١٩٤٩ء، اک محشر خیال، ٦٧ )

اشتقاق

فارسی سے ماخوذ اسم 'شناس' کے ساتھ لاحقۂ صفت 'ا' بڑھانے سے 'شناسا' بنا۔ اردو میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ اور سب سے پہلے ١٧٩١ء کو "طوطی نامہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - جان پہچان والا، دوست، واقف کار، پہچاننے والا۔ "وہاں ایک انگریز جو ان کا شناسا تھا غالباً جان شیکسپیئر یا بامران کو دیکھ کر حیران ہوا۔"      ( ١٩٨٧ء، نگار، کراچی، ستمبر، ١٢ ) ٢ - کسی چیز کو جاننے یا سمجھنے والا۔ "جو ہیرا جی کے روحانی تصرفات کے شناسا ہیں۔"      ( ١٩٤٩ء، اک محشر خیال، ٦٧ )

اصل لفظ: شناختن