شناسائی

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - جان پہچان، واقفیت، صاحب سلامت۔ "میری نہ کوئی ذاتی شناسائی تھی نہ کوئی رابطہ تھا۔"      ( ١٩٨٧ء، شہاب نامہ، ١٤ )

اشتقاق

فارسی سے ماخوذ اسم 'شناسا' کے ساتھ 'ئی' بطور لاحقۂ کیفیت ملنے سے 'شناسائی' بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ اور سب سے پہلے ١٧٩٥ء کو "دیوانِ قائم" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - جان پہچان، واقفیت، صاحب سلامت۔ "میری نہ کوئی ذاتی شناسائی تھی نہ کوئی رابطہ تھا۔"      ( ١٩٨٧ء، شہاب نامہ، ١٤ )

اصل لفظ: شناختن
جنس: مؤنث