شناوری

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - پیراکی، پیرنے کا عمل۔ "اگر سلسبیل سے مراد محض چشمۂ جاری ہو تو بھی وہ ایسی چیز نہیں جس میں سوا مچھلی کے کوئی اور شناوری نہ کر سکے۔"      ( ١٩٨٧ء، نگار، کراچی، نومبر، ٢٨ )

اشتقاق

فارسی سے ماخوذ اسم صفت 'شناور' کے ساتھ 'ی' بطور لاحقۂ کیفیت ملنے سے 'شناوری' بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ اور سب سے پہلے ١٦٣٥ء کو "سَب رس" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - پیراکی، پیرنے کا عمل۔ "اگر سلسبیل سے مراد محض چشمۂ جاری ہو تو بھی وہ ایسی چیز نہیں جس میں سوا مچھلی کے کوئی اور شناوری نہ کر سکے۔"      ( ١٩٨٧ء، نگار، کراچی، نومبر، ٢٨ )

اصل لفظ: شِناوَر
جنس: مؤنث