شوبھا

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - خوبصورتی، حُسن۔  دانتوں سے تھی شوبھا ساری بجھ گئی چہرے کی پھلواری      ( ١٩٨٧ء، ضمیریات، ٨٢ ) ٢ - سجاوٹ، آرائش، زینت۔  ہم تو ہیں بس دو گھڑیوں کے اس جگ میں مہمان تم سے ہے اس دیش کی شوبھا، اس دھرتی کا مان      ( ١٩٧٤ء، لوحِ دل، ١٢٦ )

اشتقاق

سنسکرت سے اردو میں ماخوذ ہے اور بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٩٠٧ء کو "سفیدخون" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

جنس: مؤنث