شوخ
معنی
١ - چنچل، شریر، طرار۔ "کل اک بچوں کی مجلس میں کہا اک شوخ بچے نے ہماری تاک میں دشمن بڑے ہشیار بیٹھے ہیں۔" ( ١٩٨٦ء، قطعہ کلامی، ٨٦ ) ٢ - گستاخ، بے باک؛ قتنہ انگیز۔ شوخ نظروں سے دیکھنے والے چوٹ دل پر مرے لگی تو نہیں ( ١٩٨٣ء، حصارِانا، ١٣٩ ) ٣ - چمکیلا، تیز، گہرا (رنگ)۔ "چاندنی کی شوخ چاندی پورے صحن میں پھیلی ہوئی تھی۔" ( ١٩٨٦ء، قطب نما، ٥١ ) ١ - [ مجازا ] معشوق، محبوب۔ دل ایسے شوخ کو مومن نے دیدیا کہ وہ ہے محب حسینؓ کا اور دل رکھّے شِمر کا سا ( ١٨٥١ء، مومن، کلیات، ٨ ) ٢ - دلکش، حسین۔ عشق کے ہنگاموں کی اڑتی ہوئی سی یہ تصویر ہے خامۂ قدرت کی کیسی شوخ یہ تحریر ہے ( ١٩٢٤ء، بانگِ درا، ١٥٢ ) ١ - [ تصوف ] محبوبِ حقیقی۔ "شوخ معشوق کو کہتے ہیں اور . شوخی کثرتِ التفات کو کہتے ہیں کو جو معشوق کی جانب سے ہو۔" ( ١٩٢١ء، مصباح التعرف، ١٥٥ )
اشتقاق
فارسی سے اردو میں من و عن داخل ہوا اور بطور صفت نیز بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٧٠٧ء کو "کلیاتِ ولی" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - چنچل، شریر، طرار۔ "کل اک بچوں کی مجلس میں کہا اک شوخ بچے نے ہماری تاک میں دشمن بڑے ہشیار بیٹھے ہیں۔" ( ١٩٨٦ء، قطعہ کلامی، ٨٦ ) ٣ - چمکیلا، تیز، گہرا (رنگ)۔ "چاندنی کی شوخ چاندی پورے صحن میں پھیلی ہوئی تھی۔" ( ١٩٨٦ء، قطب نما، ٥١ ) ١ - [ تصوف ] محبوبِ حقیقی۔ "شوخ معشوق کو کہتے ہیں اور . شوخی کثرتِ التفات کو کہتے ہیں کو جو معشوق کی جانب سے ہو۔" ( ١٩٢١ء، مصباح التعرف، ١٥٥ )