شوکت

قسم کلام: اسم مجرد

معنی

١ - حشمت و ثروت، شان، دبدبہ، ہیبت، رعب، عزت و شان، قوت، تیزی، شدت۔ "بنو تمیم کے وفود بڑی شان و شوکت سے آئے۔"    ( ١٩١٤ء، سیرۃ النبیۖ، ٣٥:٢ ) ٢ - وقار، قوت، جاہ و جلال، شکوہ۔  یہ گبند و محراب و در ماضی کی شوکت کے نشاں    ( ١٩٧٨ء، ابنِ انشا، دلِ وحشی، ٨٨ )

اشتقاق

فارسی سے اردو میں اصل ساخت اور مفہوم کے ساتھ داخل ہوا اور بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٧٩٨ء کو "دیوانِ میر سوز" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - حشمت و ثروت، شان، دبدبہ، ہیبت، رعب، عزت و شان، قوت، تیزی، شدت۔ "بنو تمیم کے وفود بڑی شان و شوکت سے آئے۔"    ( ١٩١٤ء، سیرۃ النبیۖ، ٣٥:٢ )

جنس: مؤنث