شکایت
معنی
١ - گلہ، شکوہ۔ "کہنے لگی ماں مجھے ظفر سے کوئی شکایت نہیں۔" ( ١٩٨٨ء، نشیب، ٢٨٥ ) ٢ - بدی، برائی، غیبت۔ "اس روز میں نے اپنا سر پیٹ لیا شوہر کے خلاف کوئی شکایت سننے کو تیار نہیں۔" ( ١٩٨٨ء، نشیب، ٢٨٦ ) ٣ - مرض، بیماری، جسمانی تکلیف، دُکھ۔ "دل بڑھنے کی شکایت پر مجھے . ہسپتال میں ایک عام بیمار کی حیثیت سے داخل کر دیا گیا۔" ( ١٩٨٢ء، آتشِ چنار، ١٢ )
اشتقاق
عربی میں ثلاثی مجرد کے باب سے اسم مشتق ہے۔ عربی سے اردو میں بعینیہ داخل ہوا اور بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٦٣٥ء کو "سب رس" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - گلہ، شکوہ۔ "کہنے لگی ماں مجھے ظفر سے کوئی شکایت نہیں۔" ( ١٩٨٨ء، نشیب، ٢٨٥ ) ٢ - بدی، برائی، غیبت۔ "اس روز میں نے اپنا سر پیٹ لیا شوہر کے خلاف کوئی شکایت سننے کو تیار نہیں۔" ( ١٩٨٨ء، نشیب، ٢٨٦ ) ٣ - مرض، بیماری، جسمانی تکلیف، دُکھ۔ "دل بڑھنے کی شکایت پر مجھے . ہسپتال میں ایک عام بیمار کی حیثیت سے داخل کر دیا گیا۔" ( ١٩٨٢ء، آتشِ چنار، ١٢ )