شکستگی

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - ٹوٹ پھوٹ، خستگی۔  ہے دل کی موت عہد و وفا کی شکستگی پھر بھی جو کوئی ترکِ محبت کرے کرے      ( ١٩٧٨ء، جاناں جاناں، ٤٦ ) ٢ - رنجیدگی، آزردگی، افسردگی، طبیعت کے مرجھانے کی کیفیت۔  جو ذوقِ درد ہے تجھے تو دل کو خستہ تر بنا گداز کا مزا کہاں اگر شکستگی نہ ہو      ( ١٩٥٠ء، ترانۂ وحشت، ٧٥ ) ٣ - بُردباری، عاجزی، انکساری۔ "مسکینی اور شکستگی بدرجہ کمال حاصل تھی۔"      ( ١٨٤٦ء، تذکرۂ اہل دہلی، ٢١ ) ٤ - زخمی ہونا، زخم آنا۔ "اور آپۖ کے سر میں شکستگی واقع ہوئی تو پیغمبر صاحب چہرے مبارک سے خون سوتتے جاتے۔"      ( ١٩٠٦ء، الحقوق و الفرائض، ٣٧:٣ )

اشتقاق

شکستن  شِکَسْت  شِکَسْتَگی

مثالیں

٣ - بُردباری، عاجزی، انکساری۔ "مسکینی اور شکستگی بدرجہ کمال حاصل تھی۔"      ( ١٨٤٦ء، تذکرۂ اہل دہلی، ٢١ ) ٤ - زخمی ہونا، زخم آنا۔ "اور آپۖ کے سر میں شکستگی واقع ہوئی تو پیغمبر صاحب چہرے مبارک سے خون سوتتے جاتے۔"      ( ١٩٠٦ء، الحقوق و الفرائض، ٣٧:٣ )

اصل لفظ: شکستن
جنس: مؤنث