شکیب
قسم کلام: اسم مجرد
معنی
١ - برداشت، تحمل، صبر۔ آج تک دیتے رہے دل کو فریب اب نہیں ممکن ذرا تابِ شکیبب ( ١٩٧٨ء، ابنِ انشا، دلِ وحشی، ٤٠ )
اشتقاق
فارسی سے اردو میں من و عن داخل ہوا اور بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٥٦٤ء کو "دیوانِ حسن شوقی" میں مستعمل ملتا ہے۔
جنس: مذکر