شگن
معنی
١ - سعد یا نحس حالات کا شگون۔ "اگر غلط آدمی سے خرید کیا جائے تو برا شگن سمجھا جاتا ہے۔" ( ١٩٨٢ء، قیمتی پتھر اور آپ، ١١ ) ٢ - منگنی یا رشتہ طے ہو جانا، نسبت قرار پانا۔ "شگن بڑے ٹھاٹھ سے ہو گا اور گاؤں بھر کی عورتیں وہاں جمع ہوں گی۔" ( ١٩٤٢ء، شکست، ٣٨٢ )
اشتقاق
فارسی زبان کے اسم 'شگون' سے ماخوذ ہے۔ اردو زبان میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٦٠٩ء کو "قطب مشتری" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - سعد یا نحس حالات کا شگون۔ "اگر غلط آدمی سے خرید کیا جائے تو برا شگن سمجھا جاتا ہے۔" ( ١٩٨٢ء، قیمتی پتھر اور آپ، ١١ ) ٢ - منگنی یا رشتہ طے ہو جانا، نسبت قرار پانا۔ "شگن بڑے ٹھاٹھ سے ہو گا اور گاؤں بھر کی عورتیں وہاں جمع ہوں گی۔" ( ١٩٤٢ء، شکست، ٣٨٢ )