شہاب
معنی
١ - گہرا سُرخ رنگ جو کسم کے پھولوں کو بھگونے کے بعد ٹپکا کر نکالتے ہیں۔ "اتنا سیندور اور شہاب صرف ہوا کہ دوا کو میسر نہ ہو سکا۔" ( ١٩٥٧ء، لکھنؤ کا شاہی اسٹیج، ١٧٧ )
اشتقاق
فارسی سے اردو میں اصل صورت اور مفہوم کے ساتھ من و عن داخل ہوا اور بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٦٦٥ء کو "علی نامہ" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - گہرا سُرخ رنگ جو کسم کے پھولوں کو بھگونے کے بعد ٹپکا کر نکالتے ہیں۔ "اتنا سیندور اور شہاب صرف ہوا کہ دوا کو میسر نہ ہو سکا۔" ( ١٩٥٧ء، لکھنؤ کا شاہی اسٹیج، ١٧٧ )