شہابیہ

قسم کلام: اسم مصغر

معنی

١ - ٹھوس مادے کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے جو سیارگان کی فضا میں پائے جاتے ہیں اور جب زمین کی فضا سے ٹکراتے ہیں تو ان سے روشنی نکلتی ہے۔ "جون ١٩٦١ء میں امریکہ کا ایروبی سوم سیارچہ ١٠٢ میل کی بلندی تک گیا اور واپسی میں اپنے ساتھ دس لاکھ سے زیادہ ننھے ننھے شہابیے لایا۔"      ( ١٩٦٣ء، مصنوعی ستارے، ١٣١ )

اشتقاق

عربی سے مشتق اسم 'شہاب' کے ساتھ 'یہ' بطور لاحقۂ تصغیر بڑھانے سے 'شہابیہ' بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے اور سب سے پہلے ١٩٦٣ء، کو "مصنوعی سیارے" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - ٹھوس مادے کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے جو سیارگان کی فضا میں پائے جاتے ہیں اور جب زمین کی فضا سے ٹکراتے ہیں تو ان سے روشنی نکلتی ہے۔ "جون ١٩٦١ء میں امریکہ کا ایروبی سوم سیارچہ ١٠٢ میل کی بلندی تک گیا اور واپسی میں اپنے ساتھ دس لاکھ سے زیادہ ننھے ننھے شہابیے لایا۔"      ( ١٩٦٣ء، مصنوعی ستارے، ١٣١ )

اصل لفظ: شہب
جنس: مذکر