شہرت
معنی
١ - میان سے تلوار نکالنا۔ (ماخوذ: فرہنگِ آصفیہ) ٢ - چرچا، دھوم دھام، ظاہر و آشکار کرنا۔ کیا جگ میں شہرت رسالت کا توں ہمن میں ہوا اس جلد ست کا توں ( ١٦٨٨ء، ہدایاتِ ہندی، ٥٧ ) ٣ - نیک نامی، نام آوری، دھوم، شہرت، ناموری، چرچا۔ "لوگ شہرت کے بے حد بھوکے ہوتے ہیں۔" ( ١٩٨١ء، اکیلے سفر کا اکیلا مسافر، ١٣ ) ٤ - بدنامی کی اشاعت، رسوائی کی دھوم، ذلت و خواری (نیک نامی کی ضد)۔ خواب میں تم نہ آؤ میرے پاس شہرتوں کا خیال ہے مجہ کو ( ١٨٩٧ء، کلیاتِ راقم، ١٥٩ )
اشتقاق
عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ عربی سے اردو میں بعینہ داخل ہوا اور بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٦٨٨ء کو "ہدایاتِ ہندی" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
٣ - نیک نامی، نام آوری، دھوم، شہرت، ناموری، چرچا۔ "لوگ شہرت کے بے حد بھوکے ہوتے ہیں۔" ( ١٩٨١ء، اکیلے سفر کا اکیلا مسافر، ١٣ )