شہرہ

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - چرچا، دھوم دھام، عموماً اچھے معنوں میں شہرت کی جگہ۔ "پروفیسر ہومی کے تھیٹر کا دنیا میں بڑا شہرہ تھا۔"      ( ١٩٨٢ء، مری زندگی فسانہ، ١٤٢ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ عربی سے اردو میں من و عن داخل ہوا اور بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٧٣٩ء کو "کلیاتِ سراج" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - چرچا، دھوم دھام، عموماً اچھے معنوں میں شہرت کی جگہ۔ "پروفیسر ہومی کے تھیٹر کا دنیا میں بڑا شہرہ تھا۔"      ( ١٩٨٢ء، مری زندگی فسانہ، ١٤٢ )

اصل لفظ: شہر
جنس: مذکر