شہریار
قسم کلام: اسم نکرہ
معنی
١ - فرماں روائے شہر، بادشاہ، شاہ زادہ، مَلِک، سلطان، حاکمِ شہر، شہر کا مالک۔ ایسی غزل کہی نہ کہیں گے تمام عمر انعام و داد جس پر ملے شہر یار سے ( ١٩٨٧ء، حرفِ سرِدار، سرِ آغاز )
اشتقاق
فارسی زبان سے مرکب نسبتی ہے۔ فارسی اسم 'شہر' کے ساتھ فارسی اسم مذکر 'یار' ملنے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ اور سب سے پہلے ١٥٦٤ء کو "دیوانِ حسن شوقی" میں مستعمل ملتا ہے۔
جنس: مذکر