شہنائی

قسم کلام: اسم آلہ

معنی

١ - پھونک سے بجنے والا ایک ساز جو نوبت یا بارات کے ساتھ بجایا جاتا ہے، سرنائی۔ "پھر دروازے پر وہ شہنائیاں گونج اٹھیں جو ہمیشہ سے میرے کانوں میں بسی ہوئی تھیں۔"      ( ١٩٨٤ء، پرایا گھر، ٨٧ ) ٢ - [ حیوانیات ]  لمبی ٹانگوں کی خوش آواز چڑیا، طوطی۔ "شہنائیاں . معروف چڑیاں ہیں۔"      ( ١٩٦٩ء، پاکستان کا حیوانی جغرافیہ، ٤٠ )

اشتقاق

فارسی سے اردو میں اصل ساخت اور مفہوم کے ساتھ من و عن داخل ہوا اور بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٥٦٤ء کو "دیوانِ حسن شوقی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - پھونک سے بجنے والا ایک ساز جو نوبت یا بارات کے ساتھ بجایا جاتا ہے، سرنائی۔ "پھر دروازے پر وہ شہنائیاں گونج اٹھیں جو ہمیشہ سے میرے کانوں میں بسی ہوئی تھیں۔"      ( ١٩٨٤ء، پرایا گھر، ٨٧ ) ٢ - [ حیوانیات ]  لمبی ٹانگوں کی خوش آواز چڑیا، طوطی۔ "شہنائیاں . معروف چڑیاں ہیں۔"      ( ١٩٦٩ء، پاکستان کا حیوانی جغرافیہ، ٤٠ )

جنس: مؤنث