شیدا
معنی
١ - عاشق، فریفتہ، فدائی، دل باختہ۔ "شیدا:۔ عاشق و آشفتہ۔" ( ١٩٨٢ء، فن تاریخ گوئی اور اسکی روایت، ١١٥ ) ٢ - [ تصوف ] اہل جذب، تارک الدنیا؛ مراد؛ عاشقِ بے خبر۔ سماتا ارض میں جو پیدا اچھے زِنعتِ محمدۖ میں شیدا اچھے ( ١٦٣٨ء، چندر بدن و مہیار، ٧٩ )
اشتقاق
فارسی سے اردو میں ساخت اور مفمہوم کے لحاظ سے من و عن داخل ہوا اور بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٦٣٨ء کو "چندر بدن و مہیار" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - عاشق، فریفتہ، فدائی، دل باختہ۔ "شیدا:۔ عاشق و آشفتہ۔" ( ١٩٨٢ء، فن تاریخ گوئی اور اسکی روایت، ١١٥ )