شیعہ
معنی
١ - فدائی، محب، دوستدار۔ "ہم اپنے اس شیعہ کو سب سے بخشوا دیں گے اور ان سب کو اس سے راضی کرا دیں گے۔" ( ١٨٨٧ء، نہرالمصائب، ١٠٨ ) ٢ - پیرو کار، جماعت، گروہ، کسی کے پیچھے چلنے والا۔ "شیعہ . دوست، پیرو کار، جماعت، گروہ، رفقاء، کسی کے پیچھے چلنے والے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔" ( ١٩٨٤ء، اسلامی انسائیکلوپیڈیا، ٩٨٥ ) ٣ - مسلمانوں کا وہ فرقہ جو حضرتِ علی کرم اللہ وجہہ کو رسول اللہ صلی الیہ علیہ وسلم کا جانشین وصی اور خلیفہ بلا فصل مانتا ہے نیز شیعہ مذہب کا پیرو۔ "حضرت علی کے اقوال کا یہ منظوم ترجمہ اسی محبت کا غماز ہے جس کا اظہار ہر عہد کے مسلمان بالعموم اور شیعہ حضرات بالخصوص کرتے آئے ہیں۔" ( ١٩٨٨ء، صحیفہ، لاہور (جنوری، مارچ)، ١٨ )
اشتقاق
عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ عربی سے ساخت اور مفہوم کے اعتبار سے من و عن داخل ہوا اور بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٦١١ء کو "کلیاتِ قلی قطب شاہ" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - فدائی، محب، دوستدار۔ "ہم اپنے اس شیعہ کو سب سے بخشوا دیں گے اور ان سب کو اس سے راضی کرا دیں گے۔" ( ١٨٨٧ء، نہرالمصائب، ١٠٨ ) ٢ - پیرو کار، جماعت، گروہ، کسی کے پیچھے چلنے والا۔ "شیعہ . دوست، پیرو کار، جماعت، گروہ، رفقاء، کسی کے پیچھے چلنے والے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔" ( ١٩٨٤ء، اسلامی انسائیکلوپیڈیا، ٩٨٥ ) ٣ - مسلمانوں کا وہ فرقہ جو حضرتِ علی کرم اللہ وجہہ کو رسول اللہ صلی الیہ علیہ وسلم کا جانشین وصی اور خلیفہ بلا فصل مانتا ہے نیز شیعہ مذہب کا پیرو۔ "حضرت علی کے اقوال کا یہ منظوم ترجمہ اسی محبت کا غماز ہے جس کا اظہار ہر عہد کے مسلمان بالعموم اور شیعہ حضرات بالخصوص کرتے آئے ہیں۔" ( ١٩٨٨ء، صحیفہ، لاہور (جنوری، مارچ)، ١٨ )