شے
معنی
١ - وجودِ محسوس، حواسِ خمسہ کے ذریعہ جاننا، چیز۔ "اسے کسی شے کی ہوس نہ رہی تھی۔" ( ١٩٨٨ء، نشیب، ٣٦٦ ) ٢ - نیاب چیز، اہم چیز۔ میں بھی اِک شے ہوں مرے مشروبِ رندی پہ نہ جا تجھ کو زاہد نہیں معلوم حقیقت میری ( ١٨٩٩ء، دیوانِ ظہیر دہلوی، ٢٥١:١ ) ٤ - [ تصوف ] موجودِ حقیقی، ہستِ حقیقی، ذاتِ بحت۔ "موجودِ حقیقی اور ہستِ حقیقی اور ذاتِ بحت شے کے معنی ہیں حقیقیۃً اور افراد اور تعینات عالم کو مجازاً شے کہتے ہیں۔" ( ١٩٢١ء، مصباح التعرف، ١٥٥ )
اشتقاق
عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ عربی سے اردو میں من و عن داخل ہوا اور بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٤٢١ء کو "بندہ نواز (دکنی ادب کی تاریخ)" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - وجودِ محسوس، حواسِ خمسہ کے ذریعہ جاننا، چیز۔ "اسے کسی شے کی ہوس نہ رہی تھی۔" ( ١٩٨٨ء، نشیب، ٣٦٦ ) ٤ - [ تصوف ] موجودِ حقیقی، ہستِ حقیقی، ذاتِ بحت۔ "موجودِ حقیقی اور ہستِ حقیقی اور ذاتِ بحت شے کے معنی ہیں حقیقیۃً اور افراد اور تعینات عالم کو مجازاً شے کہتے ہیں۔" ( ١٩٢١ء، مصباح التعرف، ١٥٥ )