صائم
معنی
١ - [ طب ] دوسری یا خالی آنت، رودۂ دوم۔ "صائم یعنی خالی آنت کے اوپر والے حصے میں بہت زیادہ لونیت پائی جاتی ہے۔" ( ١٩٦٣ء، ماہیت الامراض، ١٨٦:١ ) ١ - روزہ رکھنے والا، روزہ دار۔ جو ہیں صائم انہیں یہ طاعِت دشوار کیا کم ہے نہ ہوں صائم تو اُن پر معذرت کا بار کیا کم ہے ( ١٩٢١ء، اکبر، کلیات، ٣٠٥:٢ )
اشتقاق
عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم فاعل ہے۔ عربی سے اردو میں بعینہ داخل ہوا اور بطور صفت نیز شاذ بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٨٥٤ء کو "دیوان اسیر" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - [ طب ] دوسری یا خالی آنت، رودۂ دوم۔ "صائم یعنی خالی آنت کے اوپر والے حصے میں بہت زیادہ لونیت پائی جاتی ہے۔" ( ١٩٦٣ء، ماہیت الامراض، ١٨٦:١ )