صارف

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - صرف کرنے والا، استعمال کرنے والا (کسی جنس وغیرہ کو)؛ خریدار، گاہک۔ "انسان خود ہی پیدا کار، خود ہی صارف ہوتا ہے۔"      ( ١٩٨٤ء، جدید عالمی معاشی جغرافیہ، ٧٣ ) ٢ - (ایک طرف سے دوسری جانب) موڑنے والا، پھیرنے والا۔  آلودۂ خواہش نہ ہو نفس عارف باطن میں ہو مصروف بظاہر صارف      ( ١٩٦٧ء، لحنِ صریر، ١٣٤ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم فاعل ہے۔ عربی سے اردو میں من و عن داخل ہوا اور بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٩٠٦ء کو "الحقوق والفرائض" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - صرف کرنے والا، استعمال کرنے والا (کسی جنس وغیرہ کو)؛ خریدار، گاہک۔ "انسان خود ہی پیدا کار، خود ہی صارف ہوتا ہے۔"      ( ١٩٨٤ء، جدید عالمی معاشی جغرافیہ، ٧٣ )

اصل لفظ: صرف