صاعقہ

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - گرنے والی بجلی جو زمین پرگرے، آسمانی بجلی، کڑک۔ "یہ خبر ایک صاعقے کی طرح نکلی اور جنگل کی آگ کی طرح چاروں طرف پھیل گئی۔"      ( ١٩٨٢ء، آتشِ چنار، ٧٤٠ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ عربی سے اردو میں من و عن داخل ہوا بطور اسم مذکر نیز شاذ اسم مؤنث استعمال ہوتا ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٦٤٩ء کو "خاور نامہ (قلمی نسخہ)" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - گرنے والی بجلی جو زمین پرگرے، آسمانی بجلی، کڑک۔ "یہ خبر ایک صاعقے کی طرح نکلی اور جنگل کی آگ کی طرح چاروں طرف پھیل گئی۔"      ( ١٩٨٢ء، آتشِ چنار، ٧٤٠ )

اصل لفظ: صعق
جنس: مذکر