صانع

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - بنانے والا، پیدا کرنے والا، خالق، موجد، خالقِ کائنات، اللہ تعالٰی۔  ثنائے فخرِ انسانی ہے صانع کی ثنا خوانی نہ ہو گا حق ادا ذاکر ثنا جتنی کرو کم ہو      ( ١٩٨٥ء، رختِ سفر، ٣٥ ) ٢ - بنانے والا، پیشہ ور، کاریگر (اس معنی میں صناع مستعمل ہے) (فرہنگِ آصفیہِ؛ نوراللغات)

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم فاعل ہے۔ عربی سے اردو میں من و عن داخل ہوا اور بطور صفت نیز شاذ بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٦٥٧ء کو "گلشن عشق" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

اصل لفظ: صنع